Sunday, 24 February 2013

ہے شاہیں کا جہاں اور

جرمنی کا چانسلر ترکی کے دورے پر آیا۔ وزارت ثقافت و تعلیم ترکیہ نے اس کے بے مثال استقبال کا پروگرام بنایا ۔اپنی ثقافت اپنی تہذیب دکھانے کے لیے اور اپنے آپ کو ایک ایڈوانس ملک ثابت کرنے کے لیے وہ بعض اسکولوں کی نوجوان بچیوں کو سڑکوں پر لے آئے۔ سڑکوں کے کنارے نوجوان بے پردہ لڑکیاں پھول لے کر کھڑی تھیں۔ وہ جہاں سے گزرتا اس پر پھول نچھاور کیے جاتے۔ جرمن چانسلر نے جب لڑکیوں کے لباس کو دیکھا تو اسے بے حجابی کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے ذمہ داران حکومت ترکیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "میں جب ترکی آ رہا تھا تو میرا خیال تھا میں ایک اسلامی ملک جا رہا ہوں، وہاں مجھے خواتین میں اسلامی پردہ اور اسلامی اقدار نظر آئیں گی۔ مگر یہاں تو مجھے بے پردگی ہی نظر آئی۔ یورپ میں ہمیں یہی چیز تو لے ڈوبی ہے، گھرانے تباہ و برباد ہو گئے، رشتے داریاں ختم ہو گئیں، بچے اپنے والدین سے جُدا ہو گئے، ہمارا فیملی سسٹم پورے کا پورا تباہ و برباد ہو گیا ہے۔
کیا یہ ہمارا اجتماعی احساسِ کمتری نہیں ہے؟

No comments:

Post a Comment